Thursday, 14 October 2021

میرے دل کے اک خانے میں

 آئینہ دل


میرے دل کے اک خانے میں

غم پیر پسارے بیٹھے ہیں

تم بھی تو اک غم ہی ہو ناں

اک خانے میں دلدل ہے

اس میں جکڑی ہیں کچھ یادیں

آنسو آہیں اور تصویریں

باتیں شکووں کی زنجیریں

لاکھ رہائی دینا چاہوں

اور بھی جکڑی جاتی ہیں

پہروں مجھے رلاتی ہیں

اک خانہ خواہش کا ہے

جس میں کتنی ہی قبریں

کتبوں سے محروم سہی

منظر کچھ دلگیر سا ہے

حسرت ہے اور درد اُگے ہیں

جانے کیسے لاشے ہیں یہ

جانے کن کی موت ہوئی ہے

کیا یہ اتنی ارزاں تهیں

خون ابھی تک رِستا ہے

اک خانے کے در پہ دیکھو

لاتعداد سوالی ہیں

شاید یہ دنیا کا ہو گا

کُرلاتا سناٹا باہر

اندر جامد خاموشی ہے

باہر اک ہجوم سہی

پر اندر سے یہ خالی ہے


سعدیہ بشیر

No comments:

Post a Comment