Thursday, 14 October 2021

مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو

 مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہو

کتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہو

وہ سر ہی کیا کہ جس میں تمہارا نہ ہو خیال

وہ دل ہی کیا کہ جس میں تمہارا گزر نہ ہو

ایسی تو بے اثر نہیں بیتابئ فراق

نالے کروں میں اور کسی کو خبر نہ ہو

مل جاؤ تم تو شب کو بڑھا لیں گے تا ابد

مانگیں گے یہ دعا کہ الٰہی سحر نہ ہو

زلف ان کی اپنے رخ پہ پریشاں کریں گے ہم

ڈر ہے شب وصال کہیں مختصر نہ ہو

میں ہوں وہ تفتہ دل کی ہوا آفتاب پر

میرا گماں کہ آہ کا میری شرر نہ ہو

شیدا کو تیرے خوف کسی کا نہیں یہاں

سارا جہاں ہو اس کا عدو تو مگر نہ ہو


اجمل خاں شیدا

No comments:

Post a Comment