جس کو دل آزما چکا اس کو پھر آزمائے کیوں
چال میں اس کی آئے کیوں اور فریب کھائے کیوں
دل کا قرار بھی گیا، مے کا خُمار بھی گیا
راہِ وفا میں آپ نے ایسے قدم اٹھائے کیوں
عشق کا ہے یہ سلسلہ حسن کا ہے معاملہ
اہلِ خرد سے پوچھئے جوشِ جنوں میں آئے کیوں
ان سے یہ داستانِ غم کہیۓ نہ آپ بیش و کم
دل کا ہمارے بارِ غم اور کوئی اٹھائے کیوں
جیتے جی اور بات تھی شمع ہمارے پاس تھی
مرنے کے بعد قبر پر کوئی دِیا جلائے کیوں
دیکھ کے میری چشمِ تر کہتے ہیں لوگ بیشتر
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خِشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
مجھ کو متین زِندگی راس یہاں نہ آئے گی
کرب و بلا کے شہر میں کوئی سکون پائے کیوں
متین امروہوی
No comments:
Post a Comment