ضبط گریہ کی مجھ میں تاب نہیں
اور، تنہائی دستیاب نہیں
میں نے اک شخص ہی تو مانگا تھا
کیوں دعا میری مستجاب نہیں
درد و غم دل تلک کئے محدود
ضبط تیرا کوئی جواب نہیں
زندگی کی اٹل حقیقت ہے
یہ محبت کوئی سراب نہیں
تیرا احساس ہمسفر ہے مِرا
گرچہ تُو میرے ہمرکاب نہیں
سرکشی اسپِ دل کی لازم ہے
عقل کی اس پہ گر طناب نہیں
ان کو لاحق ہے بانجھ پن شازی
'' میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں''
اس سے بڑھ کر عذاب کیا ہو گا
''میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں''
میرے دل کی کتاب میں شازی
جُز تِرے اور کوئی باب نہیں
شہناز شازی
No comments:
Post a Comment