Sunday, 10 October 2021

تمہارے جانے کا غم مناؤں گا دیکھ لینا

 تمہارے جانے کا غم مناؤں گا دیکھ لینا

میں ہجر صحرا میں خاک اڑاؤں گا دیکھ لینا

مِرا یہ دعویٰ ہے مدتوں تک میں بن کے آنسو

تمہاری آنکھوں میں جھلملاؤں گا دیکھ لینا

وہ ساری غزلیں جو بس تمہارے لیے لکھی تھیں

وہ اب میں ہر شخص کو سناؤں گا دیکھ لینا

یہ تم جو مجھ سے ذرا سی باتوں پہ روٹھتے ہو

میں ساری دنیا سے روٹھ جاؤں گا دیکھ لینا

تمہاری صحبت میں اتنا خوش ہوں کہ ہنس رہا ہوں

تمہاری فرقت میں خوں بہاؤں گا دیکھ لینا

وہ اک سمندر اداسیوں کا جو روح میں ہے

میں اس سمندر میں ڈوب جاؤں گا دیکھ لینا

تمہاری چوکھٹ پہ جان دے کر امر رہوں گا

تمہاری نبضوں میں تھرتھراؤں گا دیکھ لینا

وہ خط تمہارے جو جان سے بھی عزیز تر ہیں

میں ایک اک کر کے سب جلاؤں گا دیکھ لینا

اک اس کا غم ہی مِرا مقدر کوئی ہے ناصر

ابھی تو میں کتنے غم اٹھاؤں گا دیکھ لینا


ناصر امروہوی

No comments:

Post a Comment