Friday, 15 October 2021

قدم قدم پہ صبا تتلیاں دھنک جگنو

 قدم قدم پہ صبا، تتلیاں، دھنک، جگنو

تمہاری یاد سے ہر سُو بکھرنے لگتے ہیں

کلی، بہار، شبستاں، گلاب اور خوشبو

تمہاری سوچ سے ہر سُو نکھرنے لگتے ہیں

طلسم، خواب، تخیل، سحر، فسوں، جادو

مِرے خیال میں یک دم ابھرنے لگتے ہیں

زمین، آسماں، کہسار، بحر، دشت ودمن

تصورات میں منظر ٹھہرنے لگتے ہیں

ہوا، بہار، خزاں، آندھی، بارشیں، اولے

تمام شہر کے منظر سنورنے لگتے ہیں

پہاڑ، وادیاں، گاؤں، نگر، چمن، قریہ

سب ایک پل میں نظر سے گزرنے لگتے ہیں

کرشمہ، معجزہ، جلوہ، حسین شیش محل

نظر میں کتنے نظارے اترنے لگتے ہیں

شبِ برأت، شبِ ماہ، عید اور تہوار

تمہارے ساتھ کے پل یوں گزرنے لگتے ہیں


عنبرین جمیل خان

No comments:

Post a Comment