زمانے کی ہر اک تشویش، ہر ابہام سے پہلے
تمہارا نام نہ لیں گے، کسی الزام سے پہلے
کبھی ہو تذکرہ چاہت میں کیسے دن گزارے ہیں
اداسی چیخ اٹھتی ہے، سکوتِ شام سے پہلے
ستارے گر بتا دیتے، سفر کتنا کٹھن ہو گا
تو ہم رستہ بدل لیتے، برے انجام سے پہلے
سبھی پریاں محبت کی، جفا سے سربریدہ ہیں
کہ اک آسیب آیا تھا، یہاں گلفام سے پہلے
نئی اک داستاں لکھیں گے، ہم نے سوچ رکھا ہے
ختم کر دیں سبھی قصے، مگر آرام سے پہلے
یہ ہم جو لفظ لکھتے ہیں، ہماری آپ بیتی ہے
کہ دکھ تحریر کب ہوتے، کسی الہام سے پہلے
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment