صورت میں غزل کے مِرے اشعار میں آوے
اک شخص مسلسل مِرے افکار میں آوے
اقرار کسی روز تو اظہار میں آوے
یہ بات کسی طور تو اطوار میں آوے
بتلاؤ کروں اس سے ملاقات میں کیسے
جو وقتِ سحر آوے نہ افطار میں آوے
رخصت کی گھڑی خاطی وہ بن جاتا ہے خاکی
معصوم جو واں سے کوئی سنسار میں آوے
یہ حسن کو دو آتشہ کردیتا ہے جاناں
جو عرق محبت ترے رخسار میں آوے
ہو جائے گا اے مفتئ دیں راندۂ درگاہ
جب بھی یہ تفاخر تری دستار میں آئے
ایاز مفتی
No comments:
Post a Comment