Sunday, 10 October 2021

کوشش تو میں نے کی ہے مگر دم نہیں رہا

 کوشش تو میں نے کی ہے مگر دم نہیں رہا

مٹی پہ میرا پاؤں ابھی جم نہیں رہا

ہنس کر گلے لگانے لگے ہیں تمام لوگ

لگتا ہے زندگی میں کبھی غم نہیں رہا

طوفان کب کا سر سے گزر بھی گیا مگر

دل میں جو شور ہے وہ ابھی تھم نہیں رہا

اچھا ہے تُو نے آج ہی شورِ جنوں سنا

ماتم تو اپنے گھر میں کبھی کم نہیں رہا

میں زندگی کی جنگ میں ہارا ہوں بارہا

لیکن کسی بھی دور میں سر خم نہیں رہا

ورنہ تمام لوگ تھے ہارے ہوئے وہاں

اک آس کا دِیا تھا جو مدھم نہیں رہا


مظہر نیازی

No comments:

Post a Comment