کوشش تو میں نے کی ہے مگر دم نہیں رہا
مٹی پہ میرا پاؤں ابھی جم نہیں رہا
ہنس کر گلے لگانے لگے ہیں تمام لوگ
لگتا ہے زندگی میں کبھی غم نہیں رہا
طوفان کب کا سر سے گزر بھی گیا مگر
دل میں جو شور ہے وہ ابھی تھم نہیں رہا
اچھا ہے تُو نے آج ہی شورِ جنوں سنا
ماتم تو اپنے گھر میں کبھی کم نہیں رہا
میں زندگی کی جنگ میں ہارا ہوں بارہا
لیکن کسی بھی دور میں سر خم نہیں رہا
ورنہ تمام لوگ تھے ہارے ہوئے وہاں
اک آس کا دِیا تھا جو مدھم نہیں رہا
مظہر نیازی
No comments:
Post a Comment