Sunday, 10 October 2021

گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھی

 گزرے ہیں ہم پہ ایسے بھی لمحے کبھی کبھی

دل رو پڑا ہے سن کے لطیفے کبھی کبھی

صحرا سے تشنگی کا سبب پوچھتے ہو کیا

دریا بھی ہم نے دیکھے ہیں پیاسے کبھی کبھی

گم کردہ راہ زیست سہی اس کے باوجود

پوچھے ہیں ہم سے خضر نے رستے کبھی کبھی

اے نا خدائے وقت نہ اتنا غرور کر

ڈوبے ہیں ساحلوں پہ سفینے کبھی کبھی

ہر دل کو آپ آئینہ خانہ نہ جانیۓ

پتھر سے سخت ہوتے ہیں شیشے کبھی کبھی

سنبل ہوا ہے یہ بھی کہ غزلوں کے روپ میں

نازل ہوئے ہیں ہم پہ صحیفے کبھی کبھی


صبیحہ سنبل

No comments:

Post a Comment