Wednesday, 6 October 2021

بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر کوئی کنکر کوئی پتھر

 حرم کی ابابیلیں


بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر

کوئی کنکر

کوئی پتھر

ذرا ان ہاتھیوں کے لشکر پر پھینک دیں 

اور پھر

افق کے پار جا پہنچیں

جہاں ساروں کو جانا ہے

حساب اپنا کھانا ہے

ہمیں لیکن

محض زخم جگر اپنا دکھانا ہے

پھر اس کے بعد کی دنیا کا ہر منظر سہانا ہے


احسن عزیز مرزا

No comments:

Post a Comment