حرم کی ابابیلیں
بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر
کوئی کنکر
کوئی پتھر
ذرا ان ہاتھیوں کے لشکر پر پھینک دیں
اور پھر
افق کے پار جا پہنچیں
جہاں ساروں کو جانا ہے
حساب اپنا کھانا ہے
ہمیں لیکن
محض زخم جگر اپنا دکھانا ہے
پھر اس کے بعد کی دنیا کا ہر منظر سہانا ہے
احسن عزیز مرزا
No comments:
Post a Comment