تمہیں تلوار سے ڈر لگ رہا ہے
مجھے تو یار سے ڈر لگ رہا ہے
خبر پڑھ کر سنائی میں نے ماں کو
مجھے اخبار سے ڈر لگ رہا ہے
بدن ہے سامنے رسموں کا ننگا
مجھے تہوار سے ڈر لگ رہا ہے
تالابوں میں سبھی بچے ملیں گے
مجھے اتوار سے ڈر لگ رہا ہے
کرو کچھ فکر تم بھی قافلے کی
مجھے سالار سے ڈر لگ رہا ہے
بدن بکتے ہیں منڈی میں سحرجی
تمہارے پیار سے ڈر لگ رہا ہے
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment