Tuesday, 19 October 2021

بحث فضول ہے دل کو یہاں وہاں رکھا

 بحث فضول ہے، دل کو یہاں وہاں رکھا

وہیں پہ رکھ دیا، تُو نے قدم جہاں رکھا

ازل سے طے ہے دہر میں فنائے حُسن مگر

تمہارے قُرب نے اس حُسن کو جواں رکھا

شکوک سب نے رکھے بزم میں تیری لیکن

وہاں پہ ہم نے جو رکھا حسیں گُماں رکھا

بروزِ حشر، داغِ دل بھی جگمگا اٹھیں

سو ہم نے ہجر رگوں میں ہی پھر رواں رکھا

میں کُوئے طُور اسے ڈھونڈتی رہی برسوں

مگر وہ عشق میرے دل میں تھا نہاں رکھا


لامعہ شمس

No comments:

Post a Comment