بات بنتی ہے بات کرنے سے
چلو ہم پھر سے بات کرتے ہیں
چلو ہم اوڑھتے ہیں سپنوں کو
چلو ہم پھر سے خواب بُنتے ہیں
پھر کسی شام کے اندھیرے کو
نرم زُلفوں کے نام کرتے ہیں
پھر کسی صبح کے اجالے کو
دونوں بانہوں میں یار بھرتے ہیں
اور کسی سُرمئی سے بادل کو
ڈھونڈ لاتے ہیں گھر کے چوبارے
دھیمی دھیمی سی سرد بارش کو
مل کے کہتے ہیں اب تو آ جا رے
بات بنتی ہے بات کرنے سے
چلو ہم پھر سے بات کرتے ہیں
چلو اس راہ کو نکلتے ہیں
جس پہ چلنے سے پھول کھلتے ہیں
اور وہ خط جو ادھ کھلے ہی رہے
ان کو اب مِل کے ساتھ پڑھتے ہیں
اتنی مُدت میں جو بھی زخم ملے
دونو ں ہاتھوں سے ان کو بھرتے ہیں
اور ان سارے ہی سبز زخموں کو
بٍیچ کیاری میں دفن کرتے ہیں
نئی کچھ کونپلیں اگاتے ہیں
پیار کو پیار سے جگاتے ہیں
میں نے تاریخ میں پڑھا ہے یہ
اور بزرگوں سے بھی سنا ہے یہ
کہ بات بنتی ہے بات کرنے سے
چلو ہم پھر سے بات کرتے ہیں
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment