عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اللہ کے محبوبِ طرحدار کا چہرہ
خلاق کا شہکار ہے سرکار کا چہرہ
یادِ رخِ جاناں ہی سے فرصت نہیں ملتی
ہم نے کبھی دیکھا نہیں اغیار کا چہرہ
سائل کو ضرورت نہیں اس در پہ صدا کی
پڑھ لیتے ہیں سرکارﷺ طلبگار کا چہرہ
واللیل کا مفہوم ہے زلفِ شہ خوباں
والشمس ہے اللہ کے دلدار کا چہرہ
خالی رہا دامانِ طلب عمر بھر ان کا
تکتے رہے نادان جو اغیار کا چہرہ
کیا خوب گھڑی ہو گی پسِ مرگ جب عاشق
دیکھیں گے لحد میں شہِ ابرار کا چہرہ
لو ہو گئے، سر گرمِ شفاعت وہ سرِ حشر
نظروں میں ہے ایک ایک گنہگار کا چہرہ
امت کے لیے مرحلۂ حشر ہے آساں
ہے سامنے امت کے نگہدار کا چہرہ
آقا نے کیا حشر میں مجھ پر کرمِ خاص
نیکوں میں نمایاں تھا گنہگار کا چہرہ
کیا شانِ عطا ہے کہ ثناخوانوں میں ان کے
لکھا گیا طارق سے گنہگار کا چہرہ
طارق سلطانپوری
No comments:
Post a Comment