عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اسمِ اطہرﷺ کا تصور مِری بینائی ہے
قلب نے ذکرِ محمدﷺ سے جلا پائی ہے
بزمِ کونین سجی آپﷺ کی آمد کےطفیل
بالیقیں گلشنِ ہستی میں بہار آئی ہے
دلکشی زیبِ چمن، نورِ مہ و مہر و نجوم
یہ تِرےﷺ حُسنِ جہاں تاب کی رعنائی ہے
عاصیوں کو بھلا وحشت سرِ محشر کیوں ہو
انﷺ کی رحمت نے شفاعت کی قسم کھائی ہے
چھا گئے ہیں رخِ مہ تاب پہ کالے بادل
یا تِرےﷺ گیسوئے دوتا کی گھٹا چھائی ہے
تیرے عشاق بہت دور سے آتے ہیں مدام
ایک عالم تِراﷺ دیوانہ ہے، شیدائی ہے
چھو کے لے جانے کو گیسوئے معطر کی مہک
دیں اجازت اسے سرکارﷺ صبا آئی ہے
آستانے سے تہی دست نہ جائے زینب
ہر سوالی کی مدد آپﷺ نے فرمائی ہے
سیدہ زینب سروری قادری
No comments:
Post a Comment