بھیگتی پلکوں کو تارہ کر لیا
پیار میں ہم نے گزارہ کر لیا
بن بلائے تھے سو اس کا شکریہ
اس نے محفل میں گوارہ کر لیا
پھر بنایا اس نے جانِ انجمن
انجمن سے جب کنارا کر لیا
دیکھ کر چہرے کو میرے غور سے
اس نے زخموں کو شمارہ کر لیا
مشورے پر دل کے اپنی آ نکھ میں
عکس کو تیرے ستارہ کر لیا
تیری یادوں سے ملی ڈھارس مجھے
تیری یادوں کو سہارہ کر لیا
دھجیاں کرکے گریباں عشق میں
دامنِ دل پارہ پارہ کر لیا
جب نہ مانا یہ دلِ ناداں مرا
عشق تم سے ہی دوبارہ کر لیا
موجِ دریا نے سفینہ دیکھ کر
تیز طوفانوں کا دھارا کر لیا
دشمنوں کا کیا برے حالات میں
دوستوں نے بھی کنارہ کر لیا
ساریہ الفت کے کاروبار میں
ہم نے خود اپنا خسارہ کر لیا
ہما ساریہ
No comments:
Post a Comment