ڈالے رکھا ہوا کو عجب امتحان میں
جلتا ہوا چراغ تھا میرے گمان میں
اب چاہتا ہوں میں کہ تو سینے سے آ لگے
کب تک کھنچا کھنچا سا رہے گا کمان میں
چھت کو سنبھالتے ہوئے اک عمر کٹ گئی
افسوس میرا ذکر نہیں ہے مکان میں
مغرور تھے جو اپنی زمینوں پہ کل تلک
پرواز کر رہے ہیں مِرے آسمان میں
مٹی کا نرم جسم مبارک تمہیں جناب
نشو و نما کا اپنا مزا ہے چٹان میں
شہروز خاور
No comments:
Post a Comment