Tuesday, 16 August 2022

دجل ہے فریب ہے دھوکہ ہے یہ دنیا

دجل ہے فریب ہے دھوکہ ہے یہ دنیا

اک نئی ڈگر پہ چلنے کو ہے یہ دنیا

بیمار کو اب دور سے ہی دیکھا جائے گا

ممکن ہے کہ ہر ایک کو مبتلا سمجھا جائے گا

ہر کوئی اسی فریب میں مارا جائے گا

دیکھیے اس دجل کا اختتام کہاں ہو گا

سازش تیار ہے، کام شروع ہے

اشک بہانے کا اب گام شروع ہے

مفلس کو غنی ہونے نہیں دے گا یہ زمانہ

مُردے کو ہی مارے گا ہر آن یہ زمانہ

دجال ہے جو کرتا ظلم ناداروں پہ گویا

یہ عہدہ تو فقط خواب نگر لگتا ہے گویا

کرسی کو جاگیر نہ سمجھو اے کمینو

لے ڈوبیں گی آہیں تمہیں اے ظالم جبینو


اویس احمد

No comments:

Post a Comment