دجل ہے فریب ہے دھوکہ ہے یہ دنیا
اک نئی ڈگر پہ چلنے کو ہے یہ دنیا
بیمار کو اب دور سے ہی دیکھا جائے گا
ممکن ہے کہ ہر ایک کو مبتلا سمجھا جائے گا
ہر کوئی اسی فریب میں مارا جائے گا
دیکھیے اس دجل کا اختتام کہاں ہو گا
سازش تیار ہے، کام شروع ہے
اشک بہانے کا اب گام شروع ہے
مفلس کو غنی ہونے نہیں دے گا یہ زمانہ
مُردے کو ہی مارے گا ہر آن یہ زمانہ
دجال ہے جو کرتا ظلم ناداروں پہ گویا
یہ عہدہ تو فقط خواب نگر لگتا ہے گویا
کرسی کو جاگیر نہ سمجھو اے کمینو
لے ڈوبیں گی آہیں تمہیں اے ظالم جبینو
اویس احمد
No comments:
Post a Comment