عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینے جانے کو سرکارؐ کا اذنؐ سفر ہو گا
وہی لمحہ اسیرِ ہجر تیرا چارہ گر ہو گا
جُھکا لے سر درؐ اقدس پہ اب بھی وقت ہے باقی
سکونؐ قلب کی خاطر تو کب تک در بدر ہو گا
وسیلہ آپﷺ کا رکھتا نہیں دستؐ دعا تیرا
اور تُو اُمید رکھتا ہے دعاوں میں اثر ہو گا
غلامان محمدؐ پُر سکوں، سب ہوں گے محشر میں
فقط اک قلب مُنکر، خوف سے زیر و زبر ہو گا
وہی لمحہ مجھے افروز ہو گا جان سے پیارا
مِری پیشانی ہو گی اور اُنؐ کا سنگِ در ہو گا
افروز رضوی
No comments:
Post a Comment