ہم سفر تو لگتے ہیں ہم نوا نہیں لگتے
اپنے نقشِ پا بھی اب نقشِ پا نہیں لگتے
تم شجر کی، شبنم کی، گُل کی بات کرتے ہو
ہم کو کوہ و صحرا بھی بے صدا نہیں لگتے
بارشوں کا موسم ہے اور کھڑے ہیں جل تھل میں
اب تو ایسے ساتھی بھی دشمناں میں شامل ہیں
جو کسی حوالے سے بے وفا نہیں لگتے
ہم نے بارہا فارغؔ ان سے چوٹ کھائی ہے
دیکھنے میں جو پتھر راہ کا نہیں لگتے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment