Friday, 13 November 2015

ہم سفر تو لگتے ہیں ہمنوا نہیں لگتے

ہم سفر تو لگتے ہیں ہم نوا نہیں لگتے
اپنے نقشِ پا بھی اب نقشِ پا نہیں لگتے
تم شجر کی، شبنم کی، گُل کی بات کرتے ہو
ہم کو کوہ و صحرا بھی بے صدا نہیں لگتے
بارشوں کا موسم ہے اور کھڑے ہیں جل تھل میں
جانے بوجھے رستے بھی آشنا نہیں لگتے
اب تو ایسے ساتھی بھی دشمناں میں شامل ہیں
جو کسی حوالے سے بے وفا نہیں لگتے
ہم نے بارہا فارغؔ ان سے چوٹ کھائی ہے
دیکھنے میں جو پتھر راہ کا نہیں لگتے

فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment