Monday, 4 January 2016

ہر ادائے حسن آئینے میں آتی ہے نظر

ہر ادائے حسن آئینے میں آتی ہے نظر 
یعنی خود کو دیکھتے ہیں، مجھ کو حیراں دیکھ کر
ذرے ذرے سے نمایاں ہے تجلئ قدم
ہوش گم ہیں وسعتِ صحرائے امکاں دیکھ کر
کچھ غنیمت ہو گئے یہ پردہ ہائے آب و رنگ 
حسن کو یوں کون رہ سکتا تھا عریاں دیکھ کر
بے تکلف ہو کے مجھ سے، سب اٹھا ڈالے حجاب 
شاہدِ دیر و حرم نے مست و حیراں دیکھ کر 
آج خُوں گشتہ تمنائیں مجھے یاد آ گئیں 
ہر طرف ہنگامۂ جوشِ بہاراں دیکھ کر
گر پڑی خود روح قیدِ عنصری میں ٹوٹ کر 
لذتِ ذوقِ فنا ہر سُو فراواں دیکھ کر
پھر گئی آنکھوں کے نیچے وہ ادائے برقِ حسن 
چیخ اٹھے سب مِرا چاکِ گریباں دیکھ کر 

اصغر گونڈوی

No comments:

Post a Comment