ہر ادائے حسن آئینے میں آتی ہے نظر
یعنی خود کو دیکھتے ہیں، مجھ کو حیراں دیکھ کر
ذرے ذرے سے نمایاں ہے تجلئ قدم
ہوش گم ہیں وسعتِ صحرائے امکاں دیکھ کر
کچھ غنیمت ہو گئے یہ پردہ ہائے آب و رنگ
بے تکلف ہو کے مجھ سے، سب اٹھا ڈالے حجاب
شاہدِ دیر و حرم نے مست و حیراں دیکھ کر
آج خُوں گشتہ تمنائیں مجھے یاد آ گئیں
ہر طرف ہنگامۂ جوشِ بہاراں دیکھ کر
گر پڑی خود روح قیدِ عنصری میں ٹوٹ کر
لذتِ ذوقِ فنا ہر سُو فراواں دیکھ کر
پھر گئی آنکھوں کے نیچے وہ ادائے برقِ حسن
چیخ اٹھے سب مِرا چاکِ گریباں دیکھ کر
اصغر گونڈوی
No comments:
Post a Comment