Sunday, 3 January 2016

سایہ گل میں رہوں محو خراماں ہمدم

سایۂ گل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
رنگ سرمایہ ہے خوشبو مِرا ساماں ہمدم
خامشی چیختی رہتی ہے مِرے اندر ہی
کر نہیں پاتی سخن تجھ سے مِری جاں ہمدم
میں تِری راہ بھی دیکھوں تو کہاں تک دیکھوں
نہ کوئی وعدہ مِرے پاس نہ پیماں ہمدم
ہاں، کبھی تجھ کو بتائیں گے ہمیں دکھ کیا ہے
ہاں، دکھا دیں گے کبھی زخمِ دل و جاں ہمدم
میرے دل کی یہ زمیں خشک نہ ہو جائے کہیں
اس لیے رکھتی ہوں تر دیدہ و داماں ہمدم
رازِ ہستی میں سمجھ ہی نہیں پائی اب تک
کس طرح پھر میں کروں خود کو نمایاں ہمدم
مجھ کو مرغوب ہیں تنہائیاں میری ناہیدؔ
مجھ کو بھاتا نہیں اب مجمعِ یاراں ہمدم


ناہید ورک

No comments:

Post a Comment