جینے کے سارے مرحلے مرنے سے اور سخت ہیں
ٹکرے ہوئے پڑے بدن تو دل بھی لخت لخت ہیں
چودہ سو سال بعد بھی ہم کربلا میں ہیں کھڑے
وہ ایک تھا یزیدِ وقت، یہ سب یزیدِ وقت ہیں
خبر نہیں ہے کس لیے لوٹ آتی ہے دعا
ان رہنماؤں کے لیے طوفانِ نوحؑ بھیج دے
اعمال چہروں پر لکھے لہجے بھی کیا کرخت ہیں
صفدرؔ کریہہ مزاج ہیں ارواحِ عمل ہیں یہ
بھوکے ہیں اقتدار کے یہ وارثانِ تخت ہیں
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment