Thursday, 6 October 2016

کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں

 کام مجھ سے کوئی ہوا ہی نہیں
بات یہ ہے کہ میں تو تھا ہی نہیں
مجھ سے بچھڑی جو موجِ نگہتِ یار
پھر میں اس شہر میں رہا ہی نہیں 
کس طرح ترکِ مدعا کجیئے 
جب کوئی اپنا مدعا ہی نہیں 
کون ہوں میں جو رائیگاں ہی گیا
کون تھا جو کبھی ملا ہی نہیں 
ہوں عجب آسائشِ غم کی حالت میں
اب کسی سے کوئی گِلہ ہی نہیں 
بات ہے راستے پر جانے کی
اور جانے کا راستہ ہی نہیں 
ہے خدا ہی پہ منحصر ہر بات
اور آفت یہ ہے، خدا ہی نہیں 
دل کی دنیا کچھ اور ہی ہوتی ہے
کیا کہیں اپنا بس چلا ہی نہیں 
اب تو مشکل ہے زندگی دل کی
یعنی اب کوئی ماجرا ہی نہیں 
ہر طرف ایک حشر برپا ہے 
جونؔ خود سے نکل کر جیا ہی نہیں ​

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment