تِری شکست کا اعلان تو نہیں کریں گے
جو تیرا کام ہے دربان تو نہیں کریں گے
سیاہ رات کے آنگن میں کود کر ہم لوگ
دِیے جلائیں گے نقصان تو نہیں کریں گے
میں اپنی ذات کی حیرت سرا سے گزرا ہوں
یہ ٹھیک ہے کہ ضروری ہے کارِ گِریہ بھی
اسے بھی ہجر کے دوران تو نہیں کریں گے
یہ سوچنا تھا تمہیں دائرے بناتے ہوئے
یہ پیچ تم کو پریشان تو نہیں کریں گے
ظہیرؔ اس کی رگوں کو لہو پلا کر ہم
زمین پر کوئی احسان تو نہیں کریں گے
ثناء اللہ ظہیر
No comments:
Post a Comment