انا کا تنگ لبادہ اتار کر تُو بھی
ہماری وسعتِ دل اختیار کر تو بھی
اِدھر بھی آ کہ اِدھر بھی تو لوگ زندہ ہیں
مِری گلی سے گزر خود کو مار کر تو بھی
تمام عمر تِرے اِنتظار میں رہا ہوں
کبھی تو مل، مِرے سورج ، مِری زمین کے ساتھ
اس آسمان سے خود کو اتار کر تو بھی
تِرے لیے میں فراغت کا ایک لمحہ تھا
چلا گیا مجھے یوں ہی گزار کر تو بھی
ظہیرؔ اسے کبھی تنہائی میں یہ کہنا ہے
میں چاہتا ہوں تجھے، مجھ سے پیار کر تو بھی
ثناء اللہ ظہیر
No comments:
Post a Comment