کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں
وہ بھی باقی نہیں رہی اس دور کے انسانوں میں
وقت کا سیل بہا لے گیا سب کچھ، ورنہ
پیار کے ڈھیر لگے تھے مِرے گلدانوں میں
شاخ سے کٹنے کا غم ان کو بہت تھا، لیکن
ان کی پہچان کی قیمت تو ادا کرنی تھی
جانتا ہے کوئی اپنوں میں نہ بے گانوں میں
سر ہی ہم پھوڑنے جائیں تو کہاں جائیں گے
کھوکھلے کانچ کے بت ہیں تِرے بت خانوں میں
سعید احمد اختر
No comments:
Post a Comment