Tuesday, 3 January 2017

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں 
وہ بھی باقی نہیں رہی اس دور کے انسانوں میں
وقت کا سیل بہا لے گیا سب کچھ، ورنہ
پیار کے ڈھیر لگے تھے مِرے گلدانوں میں
شاخ سے کٹنے کا غم ان کو بہت تھا، لیکن
پھول مجبور تھے ہنستے رہے گلدانوں میں
ان کی پہچان کی قیمت تو ادا کرنی تھی
جانتا ہے کوئی اپنوں میں نہ بے گانوں میں
سر ہی ہم پھوڑنے جائیں تو کہاں جائیں گے
کھوکھلے کانچ کے بت ہیں تِرے بت خانوں میں

سعید احمد اختر 

No comments:

Post a Comment