دکھ نہ ہوں تو زندگی میں نور آئے کس طرح
شام سے پہلے ستارہ جگمگائے کس طرح
سر پہ تم جلتا ہوا سورج ذرا آنے تو دو
دیکھنا پیروں تلے آتے ہیں سائے کس طرح
صحنِ گل سہما ہوا ہے، گولیوں کی گونج سے
ایک سے سب کے رویے، ایک سی سب صورتیں
کوئی پہچانے بھلا اپنے پرائے کس طرح
تم کہ کشتِ گل میں بھی رہتے ہو اکتائے ہوئے
ہم سے پوچھو ہم نے ویرانے بسائے کس طرح
ہم نے پلکوں سے تمہاری راہ کے کانٹے چنے
جانتے ہو، ہم تمہیں منزل پہ لائے کس طرح
چل رہے ہو اجنبی راہوں پہ آنکھیں موند کر
اب تمہیں کوئی بھٹکنے سے بچائے کس طرح
مشتاق عاجز
No comments:
Post a Comment