Saturday, 7 January 2017

تمہیں کس بات کی جلدی ہے

اپنے لیے ایک نظم

تمہیں کس بات کی جلدی ہے
کن راہوں پہ جانا ہے
جو یوں رختِ سفر باندھے ہوۓ
تیار بیٹھے ہو
ابھی کچھ دیر رک جاؤ
ٹھہر جاؤ

کہ آنکھوں کی تجوری میں
ابھی کچھ خواب باقی ہیں
انہیں بھی خرچ کرنا ہے
ابھی بھونچال کی زد پر زمیں ہے
اور کارِ آشیاں بندی ادھورا ہے
اسے تکمیل دینی ہے
ابھی کچھ دیر رک جاؤ

ابھی تو منزلِ آخر تک اپنے ہم سفر کا
ساتھ دینا ہے
صدا اک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے
ابھی سے اتنی جلدی کیا

ابھی تو آسمانِ جاں پہ روشن
چاند اور تارے کی کرنوں سے
گھر آنگن جگمگانا ہے
ابھی کچھ دیر رک جاؤ

ابھی ان خواب زادوں کی
جواں آنکھوں میں جتنے خواب ہیں
ان کی حسیں تعبیر سے
دل شاد کرنا ہے
انہیں آباد کرنا ہے
ابھی سے اتنی جلدی کیا

ابھی تو چاہنے والوں کی آنکھیں
اپنے پیارے رفتگاں کے غم سے بوجھل ہیں
ابھی ان میں نمی باقی ہے
دل ٹھہرے ہیں 
اور سینوں پہ رکھا رنج کا پتھر
ابھی سرکا نہیں ہے 
اس گراں پتھر کو ان سینوں سے ہٹنے دو
انہیں تازہ ہوا میں
ٹھنڈی میٹھی سانس لینے دو
تمہیں اتنی بھی جلدی کیا

ابھی بازارِ جاں میں
گل فروشوں کی دکانیں بھی مقفل ہیں
انہیں آباد ہونے دو
کہ پھولوں سے تمہارے عشق کا رشتہ پرانا ہے
اسے یوں توڑنا اچھا نہیں
کچھ دیر رک جاؤ
کہ شاید ان میں کوئی اک دکاں کھل جاۓ
اک چادر ہی مِل جاۓ
بھلا ایسی بھی جلدی کیا
ابھی کچھ دیر رک جاؤ
ٹھہر جاؤ

حسن عباس رضا 

No comments:

Post a Comment