یہ جو ہم تجھ سے تِری بات کرنا چاہتے ہیں
جنوں بہ حرف و حکایات کرنا چاہتے ہیں
اسی لیے تو دعا درمیان میں لائے
گِلہ برنگِ مناجات کرنا چاہتے ہیں
تمہیں پسند غیاب و حجاب میں رہنا
یہ گرد بادِ جہاں کیوں ہمیں گھسیٹتا ہے
کہ ہم تو رقص تِرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں
اگر قریب سے گزروں تو ایسا لگتا ہے
یہ پیڑ مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتے ہیں
عباس تابش
No comments:
Post a Comment