Tuesday, 14 July 2020

سچ کہا ہے تو سزا اس کی ملی ہے اے دوست

سچ" کہا ہے تو "سزا" اس کی ملی ہے اے دوست" 
ہاں مگر سچ کا جنوں اب بھی وہی ہے اے دوست 
اب بھی "سایہ" جو "میسر" نہیں "پرواہ" کیا ہے 
عمر بھر ہم نے کڑی دھوپ سہی ہے اے دوست 
یہ "سیاہی" کی "سفیدی" کی "لکیریں" کیسی؟
زندگی تیری لکیروں سے بڑی ہے اے دوست 
لوگ لمحے کی "مسرت" کے لیے "جیتے" ہیں 
اس سے اچھی مری آشفتہ سری ہے اے دوست 
آگہی" نے بھی کچھ "آشوب" کیے ہیں پیدا" 
زندگی تازہ جنوں ڈھونڈ رہی ہے اے دوست 

آل احمد سرور

No comments:

Post a Comment