Tuesday, 14 July 2020

ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے

اس اہتمام سے پروانے پیشتر نہ جلے 
طواف شمع کریں اور کسی کے پر نہ جلے
ہوا ہی ایسی چلی ہے ہر ایک سوچتا ہے
تمام شہر جلے، ایک میرا گھر نہ جلے
ہمیں یہ دکھ کہ نمود سحر نہ دیکھ سکے
سحر کو ہم سے شکایت کہ تا سحر نہ جلے
چراغ شہر نہیں،۔ ہم چراغ صحرا ہیں
کسے خبر کہ جلے اور کسے خبر نہ جلے
تِری دلیل بجا، پر یہ کیسے مانا جائے
شجر  کو آگ لگے، اور کوئی ثمر نہ جلے
شعور قرب کی یہ بھی ہے اک عجب منزل
ہم اس کو غیر کی محفل میں دیکھ کر نہ جلے
یہ شام مرگِ تمنا کی شام ہے صادق
کوئی چراغ، کسی طاقِ چشم پر نہ جلے

صادق نسیم

No comments:

Post a Comment