Tuesday, 14 July 2020

آدمی کو رہ دکھانے کے لیے موجود ہیں

آدمی کو رہ دکھانے کے لیے موجود ہیں
کچھ ستارے جگمگانے کے لیے موجود ہیں
ابر،۔ دیواریں، سمندر اور نادیدہ افق
رہرووں کو آزمانے کے لیے موجود ہیں
کیوں گرفتہ دل نظر آتی ہے اے شامِ فراق
ہم جو تیرے ناز اٹھانے کے لیے موجود ہیں
دیکھتا رہتا ہوں اشیائے تصرف کی طرف
یہ کھلونے ٹوٹ جانے کے لیے موجود ہیں
پیشِ" پا "افتادہ" قریے، سربرآوردہ شجر"
سو "بہانے" دل لگانے کے لیے موجود ہیں
کون کر سکتا ہے ایسے میں کسی "دریا" کا رخ؟
جب وہ آنکھیں ڈوب جانے کے لیے موجود ہیں
میں درختوں سے مخاطب ہوں خدائے عز و جل
جو زمیں پر سر اٹھانے کے لیے موجود ہیں

ثروت حسین

No comments:

Post a Comment