آدمی کو رہ دکھانے کے لیے موجود ہیں
کچھ ستارے جگمگانے کے لیے موجود ہیں
ابر،۔ دیواریں، سمندر اور نادیدہ افق
رہرووں کو آزمانے کے لیے موجود ہیں
کیوں گرفتہ دل نظر آتی ہے اے شامِ فراق
دیکھتا رہتا ہوں اشیائے تصرف کی طرف
یہ کھلونے ٹوٹ جانے کے لیے موجود ہیں
پیشِ" پا "افتادہ" قریے، سربرآوردہ شجر"
سو "بہانے" دل لگانے کے لیے موجود ہیں
کون کر سکتا ہے ایسے میں کسی "دریا" کا رخ؟
جب وہ آنکھیں ڈوب جانے کے لیے موجود ہیں
میں درختوں سے مخاطب ہوں خدائے عز و جل
جو زمیں پر سر اٹھانے کے لیے موجود ہیں
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment