روح کا درد کون دیکھے گا
سانس کی کپکپی نہیں جاتی
زخم بھرتے نہیں ہیں آنکھوں کے
درد کے ایک ایک ریشے کو
کھینچ کر یوں اُدھیڑتا ہے دل
جسم کی ایڑیوں سے چوٹی تک
تار سا اک نکلتا جاتا ہے
روح کی چیخ گھونٹ رکھی ہے
آہ بھینچے ہوئے ہوں ہونٹوں میں
تم نے بھیجا تو ہے سہیلی کو
جسم کے زخم دیکھ جائے گی
روح کا درد کون دیکھے گا؟
گلزار
No comments:
Post a Comment