Wednesday, 11 November 2020

روح کا درد کون دیکھے گا

روح کا درد کون دیکھے گا


 سانس کی کپکپی نہیں جاتی

زخم بھرتے نہیں ہیں آنکھوں کے

درد کے ایک ایک ریشے کو

کھینچ کر یوں اُدھیڑتا ہے دل

جسم کی ایڑیوں سے چوٹی تک

تار سا اک نکلتا جاتا ہے

روح کی چیخ گھونٹ رکھی ہے

آہ بھینچے ہوئے ہوں ہونٹوں میں

تم نے بھیجا تو ہے سہیلی کو

جسم کے زخم دیکھ جائے گی

روح کا درد کون دیکھے گا؟


گلزار

No comments:

Post a Comment