مست آنکھوں کی حراست میں چلے آئے ہیں
بے ایمان لوگ حفاظت میں چلے آئے ہیں
یوں لگا ہم کو تیرے دل میں اتر کر جیسے
بادشاہ اپنی ریاست میں چلے آئے ہیں
تختۂ دار پہ پہنچے ہیں تو یہ سوچتے ہیں
ہم کہاں تیری محبت میں چلے آئے ہیں
ہم کو اس جنگ کے اسباب نہیں ہیں معلوم
ہم تو بس شوقِ شہادت میں چلے آئے ہیں
میں اسد کوئی طلب گار نہ تھا فاقوں کا
یہ تو بس میری وراثت میں چلے آئے ہیں
اسد رضوی
No comments:
Post a Comment