جھوٹ کے روز خدوخال میں چھپ جاتا ہے
آئینہ کیوں کئی اشکال میں چھپ جاتاہے
شیخ زادی! میں کہاں تم کو نظر آؤں گا
ایک بے حال ترے حال میں چھپ جاتا ہے
کون پرچار کرے عشق میں مرجانے کا
آدمی اپنے ہی جنجال میں چھپ جاتا ہے
صاحب کشف فقیروں کے قبیلے سے ہوں
خوبرو بخت تری فال میں چھپ جاتا ہے
دل نے تصویر محبت کی بدل ڈالی ہے
نت نئے حسن کے وہ جال میں چھپ جاتا ہے
دیکھتا ہوں ابھی تک تم میں جھلک بچپن کی
ایک پل کیسے کئی سال میں چھپ جاتا ہے
زندگی تیرے بنا کیسے گزاروں عاطر
درد دن رات کی اس چال میں چھپ جاتا ہے
نیاز احمد عاطر
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteاَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ReplyDeleteبہت بہت شکریہ اپ مجھے اپنی ساٸیٹ کا حصہ بنایا کہ اپ کی ویب پر مزید غزلیں لگ سکتی ہیں اور اپ سے رابطے کا کس طرح کیا جا سکتا ہے 0304 0623810 میرا واٹساپ نمبر ہے سر
بلاگ پر خوش آمدید کہتا ہوں، میں واٹس ایپ چھوڑ چکا ہوں، آپ ٹیکسٹ فارمیٹ میں غزلیں میرے جی میل اکاؤنٹ پر بھجوا دیں، انشاءاللہ شاعری شائر کر دی جائیں گی۔
Delete