Tuesday, 8 December 2020

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے

 نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے

نہ آئے نیند تو آنکھوں کو کیا خماری لگے

خوشی نہیں تھی تو غم سے نباہ کر لیتے

کسی کے ساتھ طبیعت مگر ہماری لگے

کوئی نہ ہو کبھی احباب کے کرم کا شکار

مری طرح نہ کسی دل پہ زخم کاری لگے

ہمیں تڑپتا ہوا غم میں چھوڑنے والے

خدا کرے کہ تجھے زندگی ہماری لگے

نفس نفس ہمیں روزِ جزا سے بڑھ کر ہے

وہ شوق سے جئے جس کو حیات پیاری لگے

وہ مر نہ جائے تو پھر اور کیا کرے اے شکیب

وجود اپنا جسے زندگی پہ بھاری لگے


شکیب بنارسی

No comments:

Post a Comment