وہ پیشہ ور ہیں جو لوگوں کے زخم سیتے ہیں
ہمارے زخم ہمارے بہت چہیتے ہیں
شبِ فراق کا ہم کو کبھی گِلہ نہ ہوا
وہ دن وصال کے دن تھے، جو ہم پہ بِیتے ہیں
کوئی بتاؤ، کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟
وہ جان جاں تھا مگر، ہم تو اب بھی جیتے ہیں
نیاز مند ہوں میں اپنے قدردانوں کا
جو آ کے شام کو میری شراب پیتے ہیں
ہمیں بھی سوختہ کرتے ہیں اور تم کو بھی
ہمارے لفظ نہیں ہیں میاں، فیتے ہیں
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment