مجھ میں کتنے دُکھ بسا جاتی ہے روز
کیا کہانی یاد آ جاتی ہے روز
اک مکاں تعمیر ہوتا ہی نہیں
ایک بارش چھت گِرا جاتی ہے روز
میرے گھر سے آسمانوں کی طرف
اک صدائے کربلا جاتی ہے روز
بات کچھ تو ہے پسِ جذبِ خرام
ڈھونڈنے کس کو ہوا جاتی ہے روز
یہ اذیت بھی مقدر تھی کہ اب
صبح سے شام آ جاتی ہے روز
کیا کسی صحرا میں ہے میرا مکان
گھر میں کتنی گرد آ جاتی ہے روز
ایک آندھی راستوں کے خار و خس
میرے آنگن میں بچھا جاتی ہے روز
احمد امتیاز
No comments:
Post a Comment