Saturday, 8 May 2021

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

 بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے

یہ کافر وہ قیامت ہیں، طبیعت آ ہی جاتی ہے

یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں

جب آنکھیں چار ہوتی ہیں، مروت آ ہی جاتی ہے

وہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں

ہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے

ہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ملنے کے اب ان سے

وہ جب آ کر لپٹتے ہیں محبت آ ہی جاتی ہے

کہیں آرام سے دو دن فلک رہنے نہیں دیتا

ہمیشہ اک نہ اک سر پر مصیبت آ ہی جاتی ہے

محبت دل میں دشمن کی بھی اپنا رنگ لاتی ہے

وہ کتنے بے مروت ہوں مروت آ ہی جاتی ہے

ظہیر خستہ جاں شب سو رہا کچھ کھا کے سنتے ہیں

تعجب کیا ہے، انساں کو حمیت آ ہی جاتی ہے


ظہیر دہلوی

No comments:

Post a Comment