Monday, 17 May 2021

وہ صورت گرد غم میں چھپ گئی ہو

 وہ صورت گردِ غم میں چھپ گئی ہو

بہت ممکن یہ وہ ہی آدمی ہو

میں ٹھہرا آبشارِ شہرِ پُر فن

گھنے جنگل کی تم بہتی ندی ہو

بہت مصروف ہے انگشتِ نغمہ

مگر تم تو ابھی تک بانسری ہو

مِری آنکھوں میں ریگستاں بسے ہیں

کوئی ایسے میں ساون کی جھڑی ہو

دِیا جو بُجھ چکا ہے پھر جلانا

بہت محسوس جب میری کمی ہو

یہ شب جیسے کوئی بے ماں کی بچی

اکیلے روتے روتے سو گئی ہو

وہ دریا میں نہانا چاندنی کا

کہ چاندی جیسے گھُل کر بہہ رہی ہو

کہانی کہنے والے کہہ رہے ہیں

مگر جانے وہی جس پر پڑی ہو

میاں! دیوان کا مت رعب ڈالو

پڑھو کوئی غزل جو واقعی ہو

غزل وہ مت سنانا ہم کو شاعر

جو بے حد سامعیں میں چل چکی ہو


بشیر بدر

No comments:

Post a Comment