Sunday, 23 May 2021

مور نہیں جانتا اس کے کتنے رنگ ہوتے ہیں

مور


 مور نہیں جانتا

اس کے کتنے رنگ ہوتے ہیں

وہ خود کو رقص کرتے ہوئے

نہیں دیکھ سکتا

مور

گیت گاتا ہے

صحرا اور اس کی پیاس

اس کے گیت میں سمٹ آتی ہے

مور

مور نہیں رہتا

صحرا بن جاتا ہے

صحرا

مور کے رنگوں کو

ریت ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا

صحرا

مور میں تبدیل ہو جاتا ہے

بگُولے رقص کرنے لگتے ہیں

صحرا جانتا ہے

مور کا گیت کتنا طولانی ہے

مور کو معلوم ہے

صحرا کتنی دیر تک رقص کر سکتا ہے

ہم

گیت نہیں سنتے

گریہ سنتے ہیں

اور نہیں جانتے

کون کسے مرتے ہوئے دیکھ رہا ہے


مصطفیٰ ارباب

No comments:

Post a Comment