مور
مور نہیں جانتا
اس کے کتنے رنگ ہوتے ہیں
وہ خود کو رقص کرتے ہوئے
نہیں دیکھ سکتا
مور
گیت گاتا ہے
صحرا اور اس کی پیاس
اس کے گیت میں سمٹ آتی ہے
مور
مور نہیں رہتا
صحرا بن جاتا ہے
صحرا
مور کے رنگوں کو
ریت ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا
صحرا
مور میں تبدیل ہو جاتا ہے
بگُولے رقص کرنے لگتے ہیں
صحرا جانتا ہے
مور کا گیت کتنا طولانی ہے
مور کو معلوم ہے
صحرا کتنی دیر تک رقص کر سکتا ہے
ہم
گیت نہیں سنتے
گریہ سنتے ہیں
اور نہیں جانتے
کون کسے مرتے ہوئے دیکھ رہا ہے
مصطفیٰ ارباب
No comments:
Post a Comment