Saturday, 8 May 2021

ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کر

 ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اُونچا کر

پُکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھر

چمن میں ہم نہ رہیں گے تِرے پلٹنے تک

ٹھہر ٹھہر ذرا جاتی ہوئی بہار ٹھہر

کوئی فریب نہ کھائے سفید پوشی سے

نہ جانے کتنے ستارے نگل گئی ہے سحر

تُو جوہری ہے تو زیبا نہیں تجھے یہ گریز

مجھے پرکھ، مِری شہرت کا انتظار نہ کر

حفیظ کتنے ہی چہرے اداس ہونے لگے

ہمارے فن کو سراہیں بہت نہ اہلِ نظر 


حفیظ میرٹھی

No comments:

Post a Comment