Monday, 10 May 2021

حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا

 حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیا

ہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیا

خاک کی کشتی تلے سونے کا ساغر جم گیا

دیدۂ بے خواب میں خواب سکندر جم گیا

موسموں کے بیچ کی دوری کا اندازہ لگاؤ

بہہ گئے پربت پگھل کر اور سمندر جم گیا

لڑکھڑا کر گر پڑی اونچی عمارت دفعتاً

دفعتاً تعمیر کی کرسی پہ کھنڈر جم گیا

رفعت چرخ بریں محدود ہو کر رہ گئی

جب سروں پر دھند کا سفاک لشکر جم گیا

دیدۂ گربہ سے کیا پھوٹی شعاع جاں گزا

پھڑپھڑایا تک نہیں زندہ کبوتر جم گیا

اہل دنیا سے مجھے تو کوئی اندیشہ نہ تھا

نام تیرا کس لیے مرے لبوں پر جم گیا


احترام اسلام

No comments:

Post a Comment