Monday, 10 May 2021

کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

 کاندھوں سے زندگی کو اترنے نہیں دیا

اس موت نے کبھی مجھے مرنے نہیں دیا

پوچھا تھا آج میرے تبسم نے اک سوال

کوئی جواب دیدۂ تر نے نہیں دیا

تجھ تک میں اپنے آپ سے ہو کر گزر گیا

رستہ جو تیری راہ گزر نے نہیں دیا

کتنا عجیب میرا بکھرنا ہے دوستو

میں نے کبھی جو خود کو بکھرنے نہیں دیا

ہے امتحان کون سا صحرائے زندگی

اب تک جو تیرے خاک بسر نے نہیں دیا

یارو!! امیر امام بھی اک آفتاب تھا

پر اس کو تیرگی نے ابھرنے نہیں دیا


امیر امام

No comments:

Post a Comment