Sunday, 9 May 2021

بھولا بسرا خواب ہوئے ہم

بھولا بسرا خواب ہوئے ہم

کچھ ایسے نایاب ہوئے ہم

دریا بن کر سوکھ گئے تھے

قطرے سے سیراب ہوئے ہم

جانے کس منظر سے گزرے

پل بھر میں برفاب ہوئے ہم

خود اپنی ہی گہرائی میں

آخر کو غرقاب ہوئے ہم

خوابوں کی تعبیر بھی دیکھیں

اتنے کب خوش خواب ہوئے ہم

بات زباں پر لا کر سیفی

بے وقعت بے آب ہوئے ہم


بشیر سیفی 

No comments:

Post a Comment