Saturday, 22 May 2021

نسیم و نکہت و بادِ صبا کوئی نہیں دے گا

 نسیم و نکہت و بادِ صبا کوئی نہیں دے گا

گلوں کو رنگ و بو اس کے سوا کوئی نہیں دے گا

نظر میں نور آنکھوں میں حیا کوئی نہیں دے گا

وہی دے گا جو دے گا دوسرا کوئی نہیں دے گا

بنا کر راستہ تم بھیڑ سے خود ہی نکل جاؤ

کھڑے رہ جاؤ گے اور راستہ کوئی نہیں دے گا

وہ اک مفلس کی بیٹی تھی لپٹ کر ماں سے کہتی تھی

مرے ہاتھوں کو کیا رنگِ حنا کوئی نہیں دے گا

ہماری جاں نثاری کیا یونہی بے کار جائے گی

وفاداری کا اپنی کیا صلہ کوئی نہیں دے گا

اٹھو اس زندگی کو خود تمہیں تشکیل دینا ہے

شعورِ زندگی کا حوصلہ کوئی نہیں دے گا

جسے دیکھو وہ اطلس کی قبائیں نزر کرتا ہے

صدف اس دور میں سر کی ردا کوئی نہیں دے گا


صبیحہ صدف

No comments:

Post a Comment