Tuesday, 11 May 2021

ہم کہاں چاند ستاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

 ہم کہاں چاند ستاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

ہم تو وہ ہیں جو خساروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

آپ جیسے ہی تو دیتے ہیں رفاقت کا ثبوت

آپ جیسے ہی کناروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

آپ کو وصل کی لذت کی طلب ہے شاید

ہم فقط ہجر کے ماروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

اب بھی محرومیاں بستی ہیں غریبوں کے یہاں

یہ مکاں اب بھی گزاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

دیکھ یہ جان گنواں دی نہ تِری الفت میں

ہم نہ کہتے تھے کہ یاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

سچ بتائیں تو تِرے بعد یہ لگتا ہے ہمیں

جس طرح ہجر کے آروں پہ کھڑے ہوتے ہیں

خود کو وہ لوگ یہاں میر سمجھتے ہیں شفیق

دوسروں کے جو سہاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں


شفیق عطاری

No comments:

Post a Comment