ہم کہاں چاند ستاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
ہم تو وہ ہیں جو خساروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
آپ جیسے ہی تو دیتے ہیں رفاقت کا ثبوت
آپ جیسے ہی کناروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
آپ کو وصل کی لذت کی طلب ہے شاید
ہم فقط ہجر کے ماروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
اب بھی محرومیاں بستی ہیں غریبوں کے یہاں
یہ مکاں اب بھی گزاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
دیکھ یہ جان گنواں دی نہ تِری الفت میں
ہم نہ کہتے تھے کہ یاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
سچ بتائیں تو تِرے بعد یہ لگتا ہے ہمیں
جس طرح ہجر کے آروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
خود کو وہ لوگ یہاں میر سمجھتے ہیں شفیق
دوسروں کے جو سہاروں پہ کھڑے ہوتے ہیں
شفیق عطاری
No comments:
Post a Comment