Monday, 3 May 2021

دنیا یہی سمجھی کہ مقدر میں نہیں تھا

 دنیا یہی سمجھی کہ مقدر میں نہیں تھا

میں عشق کے بچھڑے ہوئے منظر میں نہیں تھا

کل شام مِرے در پہ اُتر آیا ستارہ

دیکھا تو مِرا عکس بھی اب گھر میں نہیں تھا

روتی رہیں آنکھیں لبِ ساحل سے لپٹ کر

اک ہجر کا قطرہ بھی سمندر میں نہیں تھا

اک ضبط مسلسل نے دبائے اسے رکھا

وہ کرب تِری چشمِ ستمگر میں نہیں تھا

ڈھونڈا تو مجھے کارِ وفا نے تِری، لیکن

اس شخص سے ملنا تو مقدر میں نہیں تھا

بے تیغِ رضا لڑتا رہا جنگ و جدل میں

خود مِرے سوا کوئی بھی لشکر میں نہیں تھا


حسن رضا

No comments:

Post a Comment