دنیا یہی سمجھی کہ مقدر میں نہیں تھا
میں عشق کے بچھڑے ہوئے منظر میں نہیں تھا
کل شام مِرے در پہ اُتر آیا ستارہ
دیکھا تو مِرا عکس بھی اب گھر میں نہیں تھا
روتی رہیں آنکھیں لبِ ساحل سے لپٹ کر
اک ہجر کا قطرہ بھی سمندر میں نہیں تھا
اک ضبط مسلسل نے دبائے اسے رکھا
وہ کرب تِری چشمِ ستمگر میں نہیں تھا
ڈھونڈا تو مجھے کارِ وفا نے تِری، لیکن
اس شخص سے ملنا تو مقدر میں نہیں تھا
بے تیغِ رضا لڑتا رہا جنگ و جدل میں
خود مِرے سوا کوئی بھی لشکر میں نہیں تھا
حسن رضا
No comments:
Post a Comment